تمہاری راہ میں مٹی کے گھر نہیں آتے

تمہاری راہ میں مٹی کے گھر نہیں آتے 
اسی لئے تو تمہیں ہم نظر نہیں آتے 

محبتوں کے دنوں کی یہی خرابی ہے 
یہ روٹھ جائیں تو پھر لوٹ کر نہیں آتے 

جنہیں سلیقہ ہے تہذیب غم سمجھنے کا 
انہیں کے رونے میں آنسو نظر نہیں آتے 

خوشی کی آنکھ میں آنسو کی بھی جگہ رکھنا 
برے زمانے کبھی پوچھ کر نہیں آتے 

Comments