Tuesday, 11 June 2019

ملے بنا ہی بچھڑنے کے ڈر سے لوٹ آئے

ملے بنا ہی بچھڑنے کے ڈر سے لوٹ آئے
عجیب خوف میں ہم اس کے در سے لوٹ آئے

نہ ایسے روئیے ناکامی_محبت پر
خوشی منائیے زندہ بھنور سے لوٹ آئے

یہ سوچتے ہوئے بیٹھے ہیں راہ میں رک کر
اُدھر تو گئے ہی نہیں تھے جدھر سے لوٹ آئے

لب اس کے سامنے تھے اور ہم نے چوما نہیں
سمجھ لو پاؤں اٹھے اور در سے لوٹ آئے

ابھی تو وقت ہے سورج کے ڈوبنے میں تو پھر
یہ کیا ہوا کہ پرندے سفر سے لوٹ آئے

کسی بھی طرح یہ دنیا نہ چھوڑ پائے ہم
کہ جب بھی نکلے تری رہ_گزر سے لوٹ آئے

پھر اس نے دیکھا کوئی تارا ٹوٹتے اک رات
پھر ایک روز مسافر سفر سے لوٹ آئے

مرے گزرنے کی افواہ ہی اڑا دے کوئی
کسے خبر کہ وہ جھوٹی خبر سے لوٹ آئے

No comments:

Post a Comment