Tuesday, 11 June 2019

بھولی بسری ہوئی یادوں میں کسک ہے کتنی

بھولی بسری ہوئی یادوں میں کسک ہے کتنی
ڈوبتی شام کے اطراف چمک ہے کتنی 

منظر گل تو بس اک پل کے لیے ٹھہرا تھا 
آتی جاتی ہوئی سانسوں میں مہک ہے کتنی 

گر کے ٹوٹا نہیں شاید وہ کسی پتھر پر 
اس کی آواز میں تابندہ کھنک ہے کتنی 

اپنی ہر بات میں وہ بھی ہے حسینوں جیسا 
اس سراپے میں مگر نوک پلک ہے کتنی 

جاتے موسم نے جنہیں چھوڑ دیا ہے تنہا 
مجھ میں ان ٹوٹتے پتوں کی جھلک ہے کتنی 

No comments:

Post a Comment