دُھوپ چھاؤں میں کدُورت کیوں ہے

محسن نقوی کی شاعری

دُھوپ چھاؤں میں کدُورت کیوں ہے
دُھوپ چھاؤں میں کدُورت کیوں ہے
سایا اِنساں کی ضرورت کیوں ہے

آنکھوں آنکھوں یہ کشش کیسی ہے!
چہرہ چہرہ تیری صُورت کیوں ہے

روز کیا تازہ جنازے کا جلوس
روز اِک غم کا مہورت کیوں ہے

جس نے کل مجھ کو گنوایا محسنؔ
آج اُسے میری ضرورت کیوں ہے

Comments