اب تو خواہش ہے کہ یہ زخم بھی کھا کر دیکھیں

اب تو خواہش ہے کہ یہ زخم بھی کھا کر دیکھیں
لمحہ بھر کو ہی سہی اُس کو بُھلا کر دیکھیں

شہر میں جشنِ شبِ قدر کی ساعت آئی
آج ہم بھی تیرے ملنے کی دعا کر دیکھیں

زندگی اب تجھے سوچیں بھی تو دم گھٹتا ہے
ہم نے چاہا تھا کبھی تجھ سے وفا کر دیکھیں

رونے والوں کے تو ہمدرد بہت ہیں محسن
ہنستے ہنستے کبھی دنیا کو رُلا کر دیکھیں

Comments