Posts

دِیا جلائیں بجھائیں ، الاؤ اپنا ھے

ترا خیال کبھی اس طرح مجسم ہو

دعا کا ٹوٹا ہوا حرف' سرد آہ میں ہے

میں چاہتا تھا مجھ سے بچھڑ کر وہ خوش رہے

شجر جب بھی لگاؤ تم پرکھ لینا زمینوں کو

وہ جو کہتے تھے بچھڑیں گے نہ ہم کبھی

میں جو دن کو بھی کہوں رات، وہ اقرار کرے

آج میں نے تلاش کیا اسے اپنے آپ میں

اب تو خواہش ہے کہ یہ زخم بھی کھا کر دیکھیں

فاصلوں کو ہی جدائی نہ سمجھ لینا تم

دُکھ تو یہ ھے خوشی کے موقع پر

ہم وہ ہیں جو خدا کو بھول گئے

وہ ثمر تھا میری دُعاؤں کا، اُسے کس نے اپنا بنا لیا

Main jo aati nahi nazar tum ko

Main rashk e laila woh fakhre majnu

Rakh kar sajde mein sar apna

Kho na jaon kahin zamane mein

Aaj usko kho kar

Jane bhi nahi dete

Usse kehna badal gai hon mein

Ae khuda sun le dua

Humsafar khubsurat nahi. sacha hona chahiye